دل کی بساط کیا تھی نگہِ جمال میں--
ایک آئینہ تھا توٹ گیا دیکھ بھال مین--
صبر آہی جائے گر بسرھو ایک حال میں--
امکاں ایک اور ظلم ہائے قیدِ محال میں--
آذردہ ھوں اس قدر سرابِ خیال سے--
...چہاتا ھے تم بھی نہ او خیال میں--
دنیا ہے خواب، حاصل دنیا خیال ہے--
انسان خواب دیکھ رہا ھے خیال مین--
عمر دو روزہ واقعی خواب و خیال تھی--
کچھ خواب مین گزر گئی کچھ خیال مین--
Thursday, October 21, 2010
Subscribe to:
Posts (Atom)

